Tuesday, 25 February 2025
Saturday, 30 November 2024
دربار حضرت عبد اللہ شاہ بخاری پر کرپشن عروج پر پہنچ گئی۔
دربار حضرت عبد اللہ شاہ بخاری پر کرپشن عروج پر پہنچ گئی۔
مظفر گڑھ(ڈویثرنل رپورٹر) محکمہ اوقاف کے مینجر اوقاف کی ملی بھگت سے دربار حضرت دربار حضرت عبد اللہ شاہ بخاری پر کرپشن عروج پر۔پہنچ چکی ہے۔ سرکاری خزانے کوماہانہ لاکھوں کا ٹیکہ لگایا جاتاہے لیکن افسران بالا کو سب اچھا کی رپورٹ دی جا رہی ہے۔کرپٹ اور ہٹ دھرم اور متعدد مرتبہ کرپشن کی بابت Revertہو کر مینجر کے عہدہ پر فائز ہونے والروکریسی کی مدد سے اور افسران بالا کو دھوکے میں رکھ کر اور اپنی انکوائریاں دبوا کر دوبارہ بحال تو ہو گیا لیکن اپنی عادات اور کرپشن کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے لگا۔عرس بابا محمد پناہ کے دوران اور بعد میں تعینات نگران عملہ کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ نام نہاد متولی بن کر زائرین سے بڑے نوٹ اول تو چھین لیتے ہیں اور اگر ان سے بچ کر غلہ میں چلے بھی جائیں تو وہ کیش کاوئنٹگ کے وقت کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں کیونکہ غلہ کی کشادگی کے دوران اپنا ہی عملہ اور ان کے مفادات کا خیال رکھ کر خوب کرپشن کی جاتی ہے اورافسران سے ملکر خوب مال بٹورا جاتا ہے اور سابقہ فگر کو مدنظر رکھ کر 20 فیصد کا ڈھونگ رچا کر باقی مال کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا جاتا ہے یہی نہیں بلکہ کیش کشادگی عوام کے سامنے ڈھونگ رچا کر کر لی جاتی ہے اور بڑے نوٹوں کی گتھیوں میں اضافی نوٹ ڈال کر علیحدہ سے کمرے میں لے جا کر مطلوبہ فگر ڈال لئے جاتے ہیں اور اس مال کو مال غنیمت سمجھ کر آپس میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ غلوں سے نکلنے والا سونا و نقری بھی کرپشن کی نذر ہو جاتی ہے اس سلسلے میں کشادگی کے اوقات میں نام نہاد کمیٹی بنا لی جاتی ہے جس میں نہ کوئی مقامی انتظامیہ کا بندہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی سماجی کارکن اور نہ ہی کوئی مقامی کونسلروں میں سے ہوتا ہے۔جس کا فائدہ اٹھا کر گورنمنٹ کے خزانے کو ٹیکنیکل طریقے سے ملی بھگت کرکے لوٹا جاتا ہے
